نیویارک ٹائمز نے مزید
لکھا ہے: ممکن ہے کہ ابتدائیم مرحلہ مین ایسا لگے کہ گویا ہنیہ کا قتل، حماس اور
اسرائیل کے درمیان 30 سالہ جنگ میں، اس تحریک کے لئے ایک تباہ کن واقعہ ہے جس کے
بعد اس کا مستقبل مبہم ہو سکتا ہے، لیکن حماس کی تاریخ نیز گذشتہ عرصوں میں دوسری
مسلح فلسطینی تحریکوں اور جماعتوں کے ارتقائی عمل کو دیکھا جائے تو یہ تحریک نہ صرف
بحالی کے مرحلے طے کرے گی بلکہ سیاسی لحاظ سے پہلے سے زیادہ مضبوط اور طاقتور ہوکر
ابھرے گی۔
اس مضمون / رپورٹ کے مطابق، علاقائی مبصرین اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اسماعیل ہنیہ کا قتل اسرائیل کے لئے مختصر مدت کے لئے، ایک کامیابی سمجھا جاتا ہے لیکن یہ کسی صورت میں بھی اس ریاست کے لئے طویل مدتی کامیابی کا سبب نہیں بن سکتا۔
فلسطین کے امور میں بین
الاقوامی کرائسس گروپ کے سینیئر تجزیہ کار طحانی مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ یہ دہشت
گردانہ اقدامات فلسطینیوں کو خوفزدہ کرنے اور انہیں پسپا کرنے پر مجبور کرنے کی
غرض سے انجام پائے ہیں؛ لیکن اس واقعے کے الٹے نتائج بر آمد ہونگے اور اسرائیل نے
اس اقدام کے ذریعے فلسطینیوں کو اپنی مزاحمت تیزتر کرنے کے لئے تُرپ کا پتّہ (trump card) تھما دیا ہے۔
ادھر میدان جنگ کی صورت حال یہ ہے کہ جن علاقوں میں اسرائیلی فوج نے حماس کا پورا صفایا کرنے کا اعلان کیا تھا حماس کی جنگی قوت ان علاقوں میں بدستور، موجود ہے، اور یہ تحریک غزہ کے اندر بھی اور اس سے باہر بھی، نئی نفری بھرتی کرنے میں ـ کامیابی کے ساتھ ـ مصروف عمل ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مضمون نگار اس سلسلے میں لکھا ہے:
مقاومت (مزاحمت) کی منطق یہ ہے کہ ایک بہت زیادہ طاقتور فوج کے سامنے محض جمے رہنا اور دفاع کرنا، فتح و کامیابی کے مترادف ہے۔
واشنگٹن میں واقع مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ماہر خالد الجندی نے اس حوالے سے کہا: اسماعیل ہنیہ کا قتل غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے لئے ہونے والے مذاکرات کا سلسلہ نیست و نابود ہونے کے مترادف ہے جو بجائے خود اسرائیلیوں کے لئے بہت سارے منفی اثرات کا حامل ہے اور اب [صہیونی ریاست پر] فلسطینیوں کے ہاتھوں ميں گرفتار اسرائیلی خاندانوں کا دباؤ بڑھ جائے گا۔
اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے، الجندی نے کہا: ایک قوی دلیل موجود ہے کہ حماس کی قیادت اس کے بعد پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور طاقتور ہوگی؛ فلسطینی اور علاقائی راہنماؤں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کا اسرائیلی رویہ بہت پرانا ہے جو اپنی جگہ قابل بحث ہے اور تجربے سے ثابت ہے کہ فلسطینی مقاومت کے راہنماؤں کے قتل کے خلاف دہشت گردانہ کاروائیوں کے بعد، نئے قائدین کا عزم اور حوصلہ [معجزانہ طور پر]، پہلے سے زیادہ پختہ اور مضبوط ہو جاتا ہے اور وہ اپنے آپ کو اسرائیل کے اصلی دشمنوں کے طور پر ابھرتے ہیں۔
سنہ 1970ع کے عشرے میں اسرائیل نے عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے فوجی شعبے کے کمانڈر "ودیع حداد" کو قتل کر دیا، جو اس وقت اس محاذ کی تحلیل کا سبب بنا، لیکن ایک عشرہ بعد یاسر عرفات کی قیادت میں "قومی تحریک برائے آزادی فلسطین (تحریک فتح)" اس کے متبادل کے طور پر، معرض وجود میں آئی۔ اسرائیل نے اپریل 1988ع میں تحریک فتح کے فوجی شعبے کے کمانڈر "خلیل الوزیر" کو بھی قتل کر دیا، لیکن یہ واقعہ تحریک فتح کی سرگرمیوں میں رکاوٹ نہیں بن سکا۔
سنہ 2000ع کے عشرے کے آغاز پر، حماس ایک ایسی تحریک کے طور پر سامنے آئی جو فلسطینی عوام کو ہی اسرائیل کے ہاتھوں فلسطین پر قبضے کے خلاف مسلح مزاحمت کے لئے، فلسطین کو اصل ذریعہ سمجھتی تھی جبکہ دوسری فلسطینی تنظیموں کی فوجی طاقت ختم ہو چکی تھی، اور تنظیم آزادی فلسطین (PLO) نے مسلح مزاحمت ترک کرکے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔ اسی دور میں پی ایل او کے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد، حماس تحریک مضبوط اور طاقتور ہوئی اور باوجود اس کے کہ اسرائیل نے اس تحریک کے بعض راہنماؤں کو قاتلانہ حملوں کا نشانہ بنایا لیکن حماس کے کام میں کوئی خلل نہیں پڑا۔
بین الاقوامی کرائسس گروپ کے فلسطینی امور کے مشہور تجزیہ کار طحانی مصطفیٰ نے اس سلسلے میں کہا: ہنیہ کی زندگی کی کہانی حماس کی سرگرمیاں محدود کرنے کی اسرائیلی کوششوں کی ناکامی کے بارے میں ایک مختلف سبق پیش کرتی ہے۔ حماس ان 400 فلسطینیوں میں شامل تھے جنہیں اسرائیل نے غزہ سے اپنے زیر قبضہ جنوبی لبنان جلاوطن کیا؛ لیکن ان جیسے راہنما تنہا ہونے کے بجائے، پہلے سے زیادہ مقبول اور ہر دلعزیز ہوگئے اور خطے میں ایک وسیعتر پوزیشن حاصل کرلی۔
طحانی مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ شاید طویل عرصے سے حماس کی بقاء کا اہم ترین راز یہ ہے کہ حماس بنیادی طور پر بیرونی مادی امداد و حمایت پر انحصار نہیں کرتی جبکہ تنظیم آزادی فلسطین مکمل طور پر بیرونی امداد سے وابستہ تھی اور یہی مسئلہ سبب بنا کہ اسرائیل نے اس کو تباہ کرکے رکھ دیا؛ اس سے بھی زيادہ اہم بات یہ ہے کہ حماس نے اس خودانحصاری کو ـ حتیٰ کہ اسرائیل کی طرف سے غزہ کی پٹی کی ناکہ بندی میں شدت آنے کے باوجود بھی ـ قائم و دائم رکھا۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، حماس کے پاس ایسے متعدد انجنیئرز ہیں جو خوب جانتے ہیں کہ اسرائیلی ہتھیاروں کے باقیات سے کیونکر فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے اور ان سے جدید ترین ہتھیار کس طرح بنائے جا سکتے ہیں۔
طحانی مصطفیٰ کہتے ہیں: حماس تحریک کے بہت سارے ہتھیار دیسی ساختہ ہیں اسی بنا پر جنگ غزہ کے 10 مہینے گذرنے کے باوجود، فلسطینی مقاومت اپنی فوجی قوت برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110